سرسی:17؍ فروری (ایس اؤ نیوز)اترکنڑا میں رہائش پذیر پسماندہ طبقات کےفوریسٹ مکینوں پر فوریسٹ محکمہ کا عملہ مسلسل ظلم ، ہراسانی اور زور زبردستی کررہاہے۔ سماجی فلاح و بہبودی منصوبے کے تحت پسماندہ طبقات کے فوریسٹ مکینوں کے ساتھ سماجی انصاف کرنے ارنیا بھومی حقو ہوراٹ گاررویدیکے کے وفد نے مستقل پسماندہ طبقات کمیشن کے قیام کا مطالبہ کرتے ہوئے کمیشن کے ریاستی صدر جئے پرکاش شٹی کو میمورنڈم پیش کیا۔
اس سلسلےمیں ویدیکے کے صدر رویندر نائک نے بتایا کہ فوریسٹ زمین پر بسنے والے پسماندہ طبقات کو سماجی انصاف فراہم کرنے کے لئے مستقل پسماندہ طبقات کمیشن کی ضرورت ہے۔ اترکنڑا ضلع میں کل 97مختلف پسماندہ ذاتیں ہیں۔ فوریسٹ حقوق قانون کے مطابق داخل کردہ عرضیوں میں سے پسماندہ طبقات کی 63500عرضیاں ہیں ۔ ان میں سے آج تک صرف 252عرضیوں کو ہی منظوری دی گئی ہے۔
میمورنڈم میں کہاگیا ہے کہ معاشی ، سماجی اور تعلیمی سطح پر بہت ہی پسماندہ طبقات کنبی، گولی، مراٹھی ، والمیکی جیسے فوریسٹ مکینوں پر فوریسٹ محکمہ کا عملہ مسلسل ظلم ، زور زبردستی اور ہراسانی کررہاہے۔ اس طرح کی غیر قانونی حرکتیں لگاتار انجام دی جارہی ہیں اور اس قانون کی خلاف ورزی کرنےوالے کام کے متعلق پولس تھانے میں شکایت کی جاتی ہے تو وہ بھی قبول نہیں کی جاتی ہے۔ اس کے علی الرغم پسماندہ طبقات کے فوریسٹ مکینوں پر کریمنل مقدمے درج کیا جانا افسوس ناک ہے۔
پسماندہ طبقات کمیشن کے ریاستی صدر جئے پرکاش شٹی نے میمورنڈم وصول کرنےکے بعد ویدیکے کے ذمہ داران کو تیقن دلایا کہ وہ پسماندہ طبقات کے فوریسٹ مکینوں کے متعلق مناسب کارروائی اور اقدام کریں گے۔ اس موقع پر کمیشن کےممبران بی ایس راج شیکھر، ایچ ایس کلیان کمار، شاردانائک، ارون کمار اور کے تمپا سورنا سمیت اترکنڑا ڈپٹی کمشنر ملئی مہیلن موجود تھے۔